کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں دفاعی اور کمزور پوزیشننگ دیکھی گئی ہے، جو کہ امریکی فیڈرل ریزرو کے حالیہ شرح سود کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ فیڈرل ریزرو نے شرح سود کو برقرار رکھا ہے، تاہم اس کے چیئرمین کیون وارش نے واضح کیا ہے کہ امریکی مرکزی بینک کی ترجیح مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے بجائے معیشتی نمو کے۔ اس فیصلے نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ کے اس دفاعی رویے کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار زیادہ خطرہ مول لینے سے گریزاں ہیں اور ممکنہ مالیاتی تبدیلیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں، کریپٹو مارکیٹ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ مہینوں میں فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی کا کریپٹو مارکیٹ پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر مہنگائی میں اضافہ یا کمی کا رجحان واضح ہو۔ اس کے علاوہ، عالمی معیشتی حالات اور دیگر مالیاتی عوامل بھی مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk