برطانیہ میں مئی کے مہینے میں بنیادی صارف قیمتوں کی شرح میں سالانہ بنیاد پر 2.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ مارکیٹ کی توقعات سے کم ہے۔ ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ شرح 2.7 فیصد ہوگی، جبکہ پچھلے مہینے کی شرح 2.5 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار ملک کی مہنگائی کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کی رفتار میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کا اثر مالیاتی پالیسیوں اور صارفین کے اخراجات پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ کم مہنگائی سے مرکزی بینک کو شرح سود میں تبدیلی کے حوالے سے زیادہ لچک مل سکتی ہے۔ سرمایہ کار اور صارفین اس صورتحال کو غور سے دیکھ رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اقتصادی فیصلوں کی سمت کا اندازہ لگا سکیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار مہنگائی میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن عالمی معاشی حالات اور دیگر عوامل کی وجہ سے مستقبل میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance