امریکی خزانے کی پیداوار مختلف میچورٹیز میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے بعد شرح سود میں اضافے کی توقعات کم ہو گئی ہیں۔ سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود میں اضافے کی پیش گوئیوں کو کم کر دیا ہے، خاص طور پر قلیل مدتی بانڈز کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو عام طور پر مالیاتی پالیسی میں تبدیلیوں کے لیے حساس ہوتی ہے۔ اس پیش رفت سے مارکیٹ میں خوش دلی پائی جاتی ہے کیونکہ ایران کے تنازع کے خاتمے سے ہرمز کی تنگی دوبارہ کھلنے کی توقع ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔ اس صورتحال میں مرکزی بینکوں کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ شرح سود میں اعتدال پسند رویہ اختیار کریں اور قلیل مدتی مہنگائی کے اثرات کو نظر انداز کر سکیں۔ اگرچہ یہ پیش رفت سرمایہ کاروں کے لیے مثبت ہے، تاہم عالمی مالیاتی منڈیوں میں مستقبل میں ممکنہ تبدیلیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance