اسپیس ایکس، جو اب پبلک مارکیٹ میں سب سے بڑی کمپنی ہے، نے اپنے خزانے کے ذخیرے کے طور پر بٹ کوائن کو شامل کیا ہے، جو کہ کاروباری ماڈل کا حصہ نہیں بلکہ ایک مالیاتی اثاثہ ہے۔ اس اقدام سے کمپنی کی مالی حکمت عملی میں ایک نیا رخ سامنے آیا ہے جس کا اثر مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کمپنی کے پہلے مالیاتی نتائج اس بات کا امتحان ہوں گے کہ آیا کارپوریٹ کرپٹو کرنسیز بیئر مارکیٹ میں کس حد تک پائیدار رہتی ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کو کرپٹو کرنسی کے مستقبل اور اس کے مالیاتی استحکام کے بارے میں اہم اشارے ملیں گے۔ مارکیٹ میں اس قسم کی بڑی کمپنیوں کی شمولیت سے کرپٹو کرنسی کی قبولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بھی موجود ہے۔ آئندہ مالی رپورٹس اور مارکیٹ کے ردعمل سے اس رجحان کی سمت واضح ہوگی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk