منگل کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی جب ٹیکنالوجی سیکٹر کی بحالی ختم ہو گئی اور ایران کی جانب سے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرائے جانے کے واقعے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن سے سخت ردعمل کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی فوج نے خلیج ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی اور ریڈار نظاموں پر جوابی حملے کیے۔ اس کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ گیا اور Cboe وولیٹیلٹی انڈیکس اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ٹیکنالوجی کے حصص میں خاص طور پر کمی دیکھی گئی، جہاں S&P 500 ٹیک انڈیکس 1.8 فیصد اور فلادلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس 1.9 فیصد گر گیا۔ ڈاؤ جونز میں معمولی اضافہ ہوا جبکہ S&P 500 اور نیسڈیک کمپوزٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کار مئی کے صارف قیمتوں کے اعداد و شمار اور متوقع SpaceX کی ابتدائی عوامی پیشکش پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جو مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی عالمی مالیاتی منڈیوں پر فوری اور نمایاں اثر ڈال سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance