ایرانی وزیر خارجہ نے ہرمز کی تنگی کو بین الاقوامی پانی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقہ ایران اور عمان کی مشترکہ ملکیت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنگی کی چوڑائی کم از کم 21 سمندری میل ہے اور یہ مکمل طور پر دونوں ممالک کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے۔ اس بیان کے مطابق، ایران اور عمان کو اس پانی کے راستے پر عبور کی نگرانی اور قواعد و ضوابط نافذ کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ اس علاقے کی سمندری حدود واضح طور پر متعین ہیں اور یہ امریکہ کے ساحل سے ہزاروں میل دور واقع ہے۔ اس قسم کے بیانات خطے میں سمندری حدود اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے جاری کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کا فوری اثر خطے کی سمندری نقل و حمل اور عالمی تیل کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ہرمز کی تنگی عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ مستقبل میں اس علاقے میں کشیدگی بڑھنے یا سمندری راستوں کی نگرانی میں سختی آنے کا امکان موجود ہے، جو عالمی مارکیٹوں میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance