بٹ کوائن کے خوف کے پیمانے میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جو فروری کے پانچ تاریخ کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ اضافہ مارکیٹ میں دو ماہ کی خاموشی کے بعد خوف کی واپسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس تبدیلی نے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے اور مارکیٹ کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ مارکیٹ کے اس اتار چڑھاؤ سے صارفین اور تاجروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ مستقبل میں قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بٹ کوائن کی مارکیٹ میں جذباتی عوامل کی اہمیت برقرار ہے اور سرمایہ کاروں کو اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk