امریکی مارکیٹ میں بٹ کوائن کے اسپاٹ ای ٹی ایف کی فہرست بندی کے بعد سے سب سے طویل عرصے تک مسلسل نو دنوں تک سرمایہ کاروں کی جانب سے 2.8 ارب ڈالر کی واپسی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس دوران بٹ کوائن کی کارکردگی مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر اسٹاکس کی نسبت کمزور رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اس طرح کی بڑی رقم کی واپسی سے مارکیٹ میں عدم استحکام کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں، جس سے بٹ کوائن کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اپنی ترجیحات میں تبدیلی لا رہے ہیں اور زیادہ مستحکم یا ترقی پذیر سیکٹرز کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔ مستقبل میں اگر یہ رجحان جاری رہا تو بٹ کوائن ای ٹی ایف کی مقبولیت میں کمی آ سکتی ہے اور مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk