میامی میں ایک آئی ٹی ورکر کو اپنے سابق آجر کے بٹ کوائن کے تقریباً 2 ملین ڈالرز کی چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ چوری کئی سالوں تک بے خبر رہی کیونکہ کرپٹو کرنسی ایک محفوظ سیف میں بند تھی۔ گرفتار ہونے والے شخص نے اپنے آجر کے بٹ کوائن والیٹ کی حفاظت اور سیٹ اپ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چوری 2020 میں ہوئی تھی، جبکہ متاثرہ شخص کو اس کا علم 2025 میں سیف کھولنے کے دوران ہوا۔ چوری کی تصدیق کے لیے بینک ریکارڈز اور والیٹ کے سیڈ فریز کا استعمال کیا گیا، جس تک صرف متاثرہ اور ملزم کی رسائی تھی۔ یہ واقعہ کرپٹو کرنسی کی حفاظت میں ایک اہم خطرے کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر جب مکمل اعتماد ایک فرد پر ہو۔ چونکہ بٹ کوائن کی ٹرانزیکشنز بلاک چین پر ریکارڈ ہوتی ہیں اور ناقابل واپسی ہوتی ہیں، اس لیے چوری شدہ فنڈز کی بازیابی مشکل ہوتی ہے۔ اس کیس سے صارفین کو اپنی ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کے لیے اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine