مستحکم سکے کی مارکیٹ کی مجموعی مالیت اب 318 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ 95 ممالک کے سرکاری زر مبادلہ ذخائر سے زیادہ ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ روایتی بینکنگ چینلز سے باہر صارفین کے پاس موجود ڈالر اور دیگر فیاٹ کرنسیاں کس حد تک بڑھ گئی ہیں۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اپنی مالیات کو محفوظ رکھنے کے لیے متبادل طریقے اختیار کر رہے ہیں، جس میں مستحکم سکے ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کا فوری اثر یہ ہے کہ مالیاتی مارکیٹوں میں لیکویڈیٹی اور کرنسی کے بہاؤ میں تبدیلی آ سکتی ہے، جو عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ آئندہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ مستحکم سکے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت مالیاتی نظام میں مزید شمولیت اور تبدیلیوں کا باعث بنے، تاہم اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں جیسے کہ ریگولیٹری چیلنجز اور مالی استحکام کے مسائل۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk