بٹ کوائن کی قیمت اس ہفتے کے بلند ترین سطح 81,500 ڈالر سے گر کر تقریباً 79,000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ کمی امریکی فوج کی ایرانی اہداف پر کارروائی کے فوراً بعد ہوئی، جس نے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس دوران، کرپٹو فیوچرز مارکیٹ میں منفی فنڈنگ ریٹس کا سلسلہ 67 دنوں تک جاری رہا جو گزشتہ دس سالوں میں سب سے طویل عرصہ ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں میں احتیاط برتنے کا رجحان بڑھا دیا ہے اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو بڑھاوا دیا ہے۔ ڈوج کوائن نے بھی اس دوران نمایاں نقصان اٹھایا ہے، جو بڑے کرپٹو کرنسیوں میں سب سے زیادہ کمی کا شکار رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی جاری رہی تو کرپٹو مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل قریب میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی سیاسی حالات اور فنڈنگ ریٹس کی صورتحال پر ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk