ایران نے ہرمز کے تنگ راستے سے گزرنے والی فیسوں کے لیے بٹ کوائن اور اسٹیبل کوائنز کے استعمال کی ممکنہ حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے۔ چینالیسس کی محقق کیٹلن مارٹن کے مطابق، امریکی ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائنز جیسے ٹیتر، روزمرہ کے تجارتی لین دین کے لیے بٹ کوائن کی نسبت زیادہ موثر ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی قیمت مستحکم رہتی ہے۔ یہ اقدام ایران کی قومی پالیسی میں کرپٹو کرنسی کو ایک اسٹریٹجک آلہ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد عالمی مالیاتی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنا اور تیل کی ترسیل کے دوران مالیاتی فیسوں کی ادائیگی کو آسان بنانا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو یہ خطے میں کرپٹو کرنسی کے استعمال کو بڑھا سکتا ہے اور دیگر ممالک کو بھی متبادل مالیاتی ذرائع اپنانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی منسلک ہیں، جیسے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی ممکنہ پابندیاں اور کرپٹو مارکیٹ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ۔ ایران کی یہ حکمت عملی عالمی مالیاتی منظرنامے میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance