بٹ کوائن کی قیمت نے حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود 76,500 ڈالر کی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی توجہ عالمی تیل کی فراہمی اور اس کے اثرات پر مرکوز ہو گئی ہے۔ ہرمز کے تنگ راستے کی بندش نے تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے، جو عالمی معیشت اور مہنگائی کی توقعات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت نے پچھلے ہفتے 78,000 ڈالر کی بلند ترین سطح کو عبور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پھر واپس 75,000 ڈالر کے قریب آ گئی۔ مارکیٹ میں اس اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کے درمیان لیکویڈیٹیشن کی لہر بھی پیدا کی، جس سے کئی پوزیشنز ختم ہو گئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی نوعیت بٹ کوائن کی قیمت کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگر کشیدگی کم ہوئی تو بٹ کوائن کی قیمت مستحکم رہ سکتی ہے، ورنہ مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں تبدیلیاں اور جغرافیائی سیاسی حالات مارکیٹ کی سمت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine