جرمنی کے فروری کے مہینے کے لیے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) میں 0.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو توقعات سے کم ہے۔ ماہرین نے 0.3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی، لیکن یہ انڈیکس گزشتہ مہینے کی 0.6 فیصد کمی کے بعد مزید نیچے گیا ہے۔ PPI وہ پیمانہ ہے جو ملکی پیداوار کنندگان کو ان کی مصنوعات کی فروخت پر ملنے والی اوسط قیمتوں میں وقت کے ساتھ تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس انڈیکس میں کمی معیشت میں ممکنہ افراط زر کی کمی یا ڈیفلیشن کے دباؤ کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ اس غیر متوقع کمی کا اثر جرمنی کی معیشتی پیش گوئیوں اور مرکزی بینک کی مالیاتی پالیسیوں پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر شرح سود کے فیصلوں میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس سے سرمایہ کاری اور صارفین کے اخراجات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے معیشت کی نمو سست ہو سکتی ہے۔ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہونے کی وجہ سے اس کا اثر یورپی یونین کی مجموعی اقتصادی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance